16 دسمبر 2013 - 20:30
دھشتگردانہ کاروائیاں ایران و عراق کے تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتیں

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمینٹ میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ تکفیری گروہ ، دھشتگردانہ کاروائیوں کے ذریعے ایران و عراق کے تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمینٹ میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ " منصور حقیقت پور " نے آج صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عراق میں ایرانی کارکنوں اور انجیئینروں پر ہونے والے دھشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ تکفیری دھشتگردوں کے یہ اقدامات ، شام اور علاقے کے مختلف مقامات میں دھشتگرد تکفیری گروہوں کو ملنے والی پے در  پے ناکامیوں کی وجہ سے سامنے آرہے ہیں۔   واضح رہے کہ جمعے کے روز عراق کی گيس سپلائی کے پروجکٹ کے ملازمين عراق کے ديالہ صوبے کے خانقين شہر کے جنوب مشرقی علاقے الندی سے کام ختم ہونے کے بعد لوٹ رہے تھے کہ ان پر دہشتگردانہ حملہ ہوا جس ميں سولہ ايرانی انجينيئر اور ملازمين اور چار عراقی ملازمين شہيد ہوگئے۔ اس دہشتگردانہ حملے ميں سات افراد زخمی بھی ہوئے جن ميں پانچ ايرانی اور دو عراقی ہيں۔ عراق کا مشرقی صوبہ ديالہ بھی ان ناامن علاقوں ميں شامل ہے جہاں القاعدہ سے وابستہ دہشتگرد تنظيميں پوری طرح سرگرم ہيں۔

.....

/169